لمبی عمرکی خواہش اورخوراک کی اہمیت

لمبی عمرکی خواہش اورخوراک کی اہمیت
لمبی عمرکی خواہش اورخوراک کی اہمیت
لمبی عمرکی خواہش اورخوراک کی اہمیت
اٹلی میں ایک شخص رہتا تھا جس کانام لوگی کارنارو تھا وہ اٹلی کے شرفاء میں سے ایک تھا  وہ 1467ء میں پیدا ہو ا اس کی زندگی خوشیو ں سے بھرپور تھی ۔ وہ اس قدر آسائشوں سے لطف اندوز ہوتا تھا جس کی قدر آسائشوں سے ہم آج کل لطف اندوز ہوتے ہیں۔درمیانی عمر تک پہنچنے کے بعد وہ  گنٹھیا کے مرض کا شکار ہو گیا۔
معدے کے درد کے ساتھ ساتھ بخار کا بھی شکار ہوا۔۔۔ بلاخر اس نے اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا طرزِ زندگی تبدیل کرے گا اور ایک صحت مند زندگی گزارے گا۔
کچھ عرصے کے بعد اس کی صحت نارمل ہو چُکی تھی اوروہ 98سال تک زندہ رہا اس نے صحت اور طویل عمری پر چار کتابیں بھی تحریر کیں۔۔۔اس نے اپنی آخری کتاب اس وقت مکمل کی جب اس کی عمر 95سال تھی ۔ اس نے ایک کلاسک مقالہ بھی تحریر کیا جس کا عنوان تھا۔۔How to live one hundred year
"ایک سو برس کی زندگی پانا کس طرح ممکن ہے" اس مقالے میں وہ بیا ن کرتا ہے کہ : "صحت کو بحال رکھنے اور دراز عمر پانے کے طریقے ہیں۔۔۔معیار اور مقدار ۔۔۔ایک باقاعدہ زندگی انسان کو ایک سو برس یا اس سے زائد عمر تک محفوظ رکھتی ہے۔
لمبی عمر پانے میں مناسب اور متوازن غذاء اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔آپ جو کچھ کھانا چاہتے ہیں وہی کچھ کھائیں اور جب کھانا چاہتے ہیں اسی وقت کھائیں  اور جوانی میں  موت کو گلے لگا لیں۔
یاد  رکھیں یہ 500برس  سے زائد عرصہ قبل تحریر کیا گیا تھا! مناسب طرز زندگی اور مناسب غذائی عادات کو اس منصف نے اس  وقت  گراں قدر اہمیت دی تھی جبکہ آبادی کی اکثریت بمشکل 40برس  کی عمر پاتی تھی حتٰی کہ آج بھی اس کی تجاویز کو جھٹلانا یا  ان کی تردید کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس نے ایک تجویز یہ بھی پیش کی تھی کہ: " کم کھاؤ اور  اعتدال کی راہ اپناؤ"
آج بھی اس تجویز کو طویل عمر  پانے کی کلید تصور کیا جاتا ہے۔ اس  کے تھوڑے عرصے کے بعد  ایک انگریز جس کا نام تھامس پار تھا۔۔۔ اس نے 152 برس  کی زندگی گزار کر شہرت پائی  اس کی خوراک سبزیوں پر مشتمل تھی۔۔۔ وہ   سبزیاں  کھاتا تھا  اور دہی کا کھٹا پانی پیتا تھا۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے  کہ اس نے اس وقت شادی کی جب اس کی عمر 120برس تھی۔
اس کی بیوی کا کہنا تھا  کہ وہ دونوں  باقاعدگی کے ساتھ جنسی فعل سر انجام دیتے تھے ۔شاہ چارلس اول نے اسے اپنے محل بلایا  تاکہ لمبی عمر کا راز  معلوم کر سکے  اور  اس کی شاندار طریقے سے میزبانی کی ۔۔لیکن بدقسمتی سے  بادشاہ  کی خوراک گوشت اور دیگر بھاری غذاؤں پر مشتمل تھی جو مسٹر پار کور اس  نہ آئی اور وہ تھوڑی دیر بعد ہی موت سے ہمکنار ہو گیا۔
غذا  نہ صرف زندگی کو سہارا دیتی ہے بلکہ موٹ کے گھاٹ بھی اتار سکتی ہےبہتر اور مناسب غذا آپ کو بہترین صحت  حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔
کچھ  پُر قوت  فوڈ کیمکلز درج ذیل ہیں۔۔۔
لہسن
انگور اور بیریز
نباتات اور بیج
ٹماٹر
انار
سیب
پیاز
ناشپاتی
آم
لہسن بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے اوردل کے دورے اور دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے یہ صحت کو قائم رکھنے کے لیے ہزاروں برسوں سے استعمال میں  لایا جا رہا ہے۔
انگور اور بیریز  مثلاََ اسٹرابری  باقاعدگی کے ساتھ کھانے چائیں۔۔۔کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور کھانے چائیں۔۔۔اسٹرابری، بلیو بیری  اور سرخ انگوروں میں 20مختلف اقسام  کے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ  پائے جاتے ہیں۔
بیجوں میں قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں جو بڑھتی  ہوئی عمر کے اثرات زائل کرتے ہیں مثلاََ سن فلاورز۔۔ان کو  باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیےاور بڑھتی  ہوئی  عمر کو شکست  دینے والی غذاء کا حصہ  بنایا  چاہیے۔ا ن بیجوں کو خوب  اچھی طرح چبانا چاہیے۔کچے ٹماٹروں میں لیکوپین پایا جاتا ہے جو ایک ایسا کیمیکل ہے  جو سرطان کے خلاف قدرتی ہتھیار ہے۔
انار میں ایک ایسا جزو پایا جاتا ہے جو ویرو سائیڈ کہلاتا ہے اور  یہ چند منٹوں  کے اندر اندر 1000ملین وائرس مارنے کی خصوصیات رکھتا ہے۔چاکلیٹ میں  ایسے اینٹی اوکسیڈنٹ فیولز پائے جاتے ہیں  جو دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔
نوٹ: کسی بھی چیز کی زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصا  ن دہ ثابت ہو سکتی ہےپھر چاہے وہ خوارک ہی کیوں نا ہو ۔۔

Post a Comment

0 Comments