ملک ریاض کی سیٹلمنٹ

ملک ریاض کی سیٹلمنٹ
ملک ریاض کی سیٹلمنٹ
ملک ریاض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بُھوکوں کے لیے دسترخوان ، صحافیوں  کے لیے پلاٹ ، سیاستدانوں کے لیے گھر اور کاریں، نیک بیوروکریٹس کے لیے حج اور عمرہ جبکہ عیاشوں کے لیے یورپ کا ویزہ ، ریٹائرڈ جرنیلوں کے لیے بینک بیلنس اور عام عوام کے لیے مساجد بناتے ہیں ۔۔۔ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی  کی جانب سے جرمانہ ہو نے کے بعد ملک ریاض نے اپنے  ٹویٹ میں کہا کہ انہیں  بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے، انہوں  نے تو سپریم کورٹ کی طرف سے عائد جرمانے کی رقم ادا کرنے کیلئے لندن میں اپنی پراپرٹی بیچ کر اس کی رقم ادا کی ہے۔۔۔ ملک ریاض کو سپریم کورٹ کی طرف سے جرمانہ مارچ 2019 میں ہوا تھا۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق پچھلے سال دسمبر 2018 میں غیر وضاحت شدہ دولت کے الزام میں لندن کی عدالت سے 20 ملین پاؤنڈز کی رقم منجمد کردی گئی تھی۔ اس کے بعد دوسرے اکاؤنٹس کی تحقیقات جاری رہیں اور مزید کئی اکاؤنٹس میں موجود 120 ملین پاؤنڈز کو اگست میں منجمد کردیےگئے۔اس کے ساتھ ساتھ ون ہائیڈ پارک میں دس بیڈروم پر مشتمل پراپرٹی کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا گیا جس کی ملکیت اس کی ٹرانزیکشن کے مطابق 42 ملین ملین پاؤنڈز تھی لیکن اسے نیشنل کرائم ایجنسی نے 50 ملین پونڈ کے تخمینے کے ساتھ منجمد کیا۔
نیشنل نیوز ایجنسی نے اپنے ٹیوٹ میں  بتایا کل ملا کر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم بنی ایجنسی نے ملک ریاض کی 190 ملین پاؤنڈ کی سیٹلمنٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے یہ منجمد رقم حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ 
اگر ملک ریاض نے یہ پراپرٹی خود بیچی تو پھر اس کی اطلاع نیشنل کرائم ایجنسی کیوں دی اور ان کے پاس ملک ریاض کے 190 ملین پاؤنڈز کیوں جمع تھے۔۔۔




Post a Comment

0 Comments