حکومتی ارکان نے آٹےکے بحران کا اعتراف کرلیا

حکومتی ارکان نے آٹےکے بحران کا اعتراف کرلیا
حکومتی ارکان نے آٹےکے بحران کا اعتراف کرلیا
حکومتی ارکان نے آٹےکے بحران کا اعتراف کرلیا
اسلام آباد سینٹ میں اپوزیشن نے آٹے کے بحران کیخلاف ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ پیر کو ہونے والے  اجلاس میں اس معاملے پر مختلف ارکان نے اظہار خیال کیا ، قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ حکومت نے ہمیں تسلی بخش جواب نہیں دیا، یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس پر ہم علامتی واک آؤٹ کرتے ہیں جس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ حکومت کی نااہلی و نالائقی کے باعث مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا ہے،آٹے کا بحران بھی حکومت کی نالائقی کا نتیجہ ہے۔لنگر خانے کھول رہے ہیں جہاں سو دو سو لوگ جاتے ہیں،لنگر خانے مسائل کا حل نہیں، کارخانے لگائیں۔ انہوں نے کہاکہ حکمران بتائیں کہ 22 کروڑ عوام کے لئے کتنا بڑا لنگر کھولیں گے،ملک پر جو عذاب آیا ہی ہمیں توبہ کرنی چاہیے اوراللہ تعالی سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ، آٹے کے بحران کے حوالے سے کوئی رولنگ دیں۔ یہ کہتے ہیں قبر میں سکون ملے گا،کفن ٹیکس میں 17 فیصد اضافہ کردیا گیا، ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی قیمت بھی 1300 کردی گئی ہے،نومبر اور دسمبر کی باتیں کرنے والوں کو شرم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ دال ماش بدمعاش بن چکی ہے، آٹے بحران کو حل کرنے کیلئے تعاون کیلئے تیار ہیں،خطرہ ہے مسائل حل نہ ہوئے تو عوام محلوں اور سرکاری دفاتروں کا گھیراؤ کرینگے۔
 اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر جاویدعباسی نے کہاکہ آٹے کا بحران صرف ایک صوبے کا نہیں پورے ملک کا ہے،حکومت کسی ایک مسلئے پر بھی سنجیدہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کروانے کے ذمہ داران کو ایک پارٹی کا اعلی عہدہ دیدیا گیا،وزیر اعظم کو سکون دنیا میں نہیں بلکہ قبر میں ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں معاشی حالات کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں،گندم کے نام پر پیسے بنانے والوں کیخلاف ایکشن لیا جائے۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا آٹے کی کمی نہیں بلکہ یہ مافیا کا پیدا کردہ مسئلہ ہے،حکومت اپنی صفوں میں مافیا کو تلاش کرے،آٹے، چینی سیمنٹ کے مافیا حکومت کی صفوں میں ہے، ڈر ہے کہ اب وزیراعظم آکر یہ نہ کہیں کہ گھبرانہ نہیں آٹا اب ساشی پیک میں ملے گا۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ موجودہ حکومت میں ضرورت سے 4لاکھ میٹرک ٹن گندم زیادہ پیدا ہوئی،4لاکھ میٹرک ٹن گندم اسمگل کی گئی،اب تین لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی جاری ہے،29روپے کلو کے حساب سے گندم باہر بھیجی گئی،جس کے خون پسینے سے گندم ہوئی وہ اب 70روپے فی کلو خرید رہا ہے،اپنے لوگوں کو بھوک دی اور اپنے لوگوں کے جیب میں پیسے دئیے،آپکی اپنی حکومتیں گندم کی غلط اعدادوشمار بتارہی ہیں،آپکی توجہ ہے کہ کس سیاسی مخالف کو احتساب کے ذریعے جیل بھیجنا ہے۔ چیئرمین سینٹ نے آٹے کے بحران پر (آج) منگل کو بھی ایوان میں بحث جاری رکھنے کی رولنگ دی اور کہاکہ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی جائے، چاروں صوبائی سیکرٹریز سے آٹے بحران پر رپورٹ لی جائے۔
حکومتی ارکان نے آٹےکے بحران کا اعتراف کرلیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ حکومت نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ بحران دو دن میں ختم ہوجائیگا، بحران کی وجہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور سڑکیں بند ہونا بھی ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اسٹاک کو محفوظ بنائیں، مانتے ہیں اس وقت آٹے کا بحران ہے، دو روز میں آٹے بحران کو ختم کردیا جائیگا۔


Post a Comment

0 Comments