چالاک بندر urdu stories for kids

چالاک بندر urdu stories for kids
چالاک بندر urdu stories for kids
چالاک بندر
کسی ندی کے کنارے ایک بہت بڑا درخت تھا جس پر ایک بندر رہتا تھا ۔ اس درخت پر بہت میٹھے آم لگتے تھے بندر انہیں کھاتا اور موج مستی کرتا تھا۔ بندر اکیلا ہی مزے کی زندگی گزار رہا تھا۔ ایک دن مگرمچھ ندی میں سے نکل کر درخت کے پاس آیا  تو بندر نے پوچھا یہاں کیوں آئے ہو مگرمچھ نے کہا میں کھانے کی تلاش میں آیا ہوں، بندر نے 
اسے درخت سے آم توڑ کر دئیے ، اس طرح بندر اور مگرمچھ کی دوستی ہو گئی۔
مگرمچھ روز بندر کے پاس آتا اور دونوں آم توڑ کر کھاتے اور آپس میں باتیں کرتے ، بندر بھی ایک دوست مل جانے پر خوش تھا۔ایک دن باتوں باتوں میں مگرمچھ نے بندر کو بتایا میری ایک بیوی بھی ہے جو ندی کی دوسری جانب رہتی ہے۔ بندر نے یہ سن کر مگرمچھ کو آم توڑ کر دئیے اور کہا اپنی بیوی کو جا کر کھلانا، مگرمچھ کی بیوی کو آم بہت پسند آئے اب روز مگرمچھ بندر کے ساتھ آم کھاتا اور جاتے وقت اپنی بیوی کے لیے بھی لے جاتا، اس کی بیوی آم کھا کر تو خوش تھی لیکن اسے مگرمچھ کا دیر سے آنا پسند نہیں تھا۔
ایک دن مگرمچھ کی بیوی نے مگرمچھ سے کہا بندر روز میٹھے پھل کھاتا ہے اس کا کلیجہ کتنا  میٹھا ہو گا میں نے بندر کا کلیجہ کھانا ہے مگرمچھ نے بیوی کو بہت سمجھایا لیکن بیوی نا سمجھی۔۔۔مگرمچھ بندر کو اپنے گھر پر دعوت کے بہانے اپنی پیٹھ پر سوار کر کے اپنے گھر لانے لگا، ندی کے درمیان میں پہنچ کر مگرمچھ نے بندر کو بتایا میری بیوی تمہارا کلیجہ کھانا چاہتی ہے ۔
بندر نے کہا میرا کلیجہ تو درخت پر پڑا ہے کیونکہ میں حفاظت کے لیے اپنا کلیجہ درخت پر چُھپا کر رکھتا ہوں اب ہمیں کلیجہ لینے واپس جانا پڑے گا۔مگرمچھ بندر کو واپس درخت کے پاس لے آیا بندر چھلانگ لگا کر درخت پر چڑھ گیا اور ہنس کر بندر کو کہا بے وقوف اپنی بیوی کو جا کر بتانا کے تم دنیا کے سب سے بڑے بے وقوف ہو ۔۔۔کون اپنا کلیجہ نکال کر الگ رکھ سکتا ہے۔
بندر کی سمجھداری سے ہمیں پتہ چلتا ہے، مصیبت کے وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا چاہیے۔

Post a Comment

0 Comments