محمدﷺ کی زندگی کامل

محمدﷺ کی زندگی کامل
محمدﷺ کی زندگی کامل
محمدﷺ کی زندگی کامل
ایک مصنف لکھتا ہے کہ کچھ دیر قبل بیٹھا ہوا تاریخ اسلام پڑھ رہا تھا کہ پڑھتے پڑھتے ذہن میں اچانک خیال آیا دُنیا کے اندر بڑے بڑے لوگ آئے.کوئی جرنیل بنا ، کوئی سپاہ سالار بنا تو کوئی حکمران ، فلاسفر ، ڈاکٹر اور سائنسدان بنا اور کوئی حکماگر میں شامل ہوا ، ان سب نے دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ، کسی نے سائنس کے میدان میں ، کسی نے شاعری اور فلاسفی کے میدان میں تو کسی نے ادب و لغت کے میدان میں تاریخ کے ان مٹ نقوش چھوڑے لیکن جب ان کی زندگیوں کو پڑھتا ہوں تو ان سب میں ایک بات یکساں نظر آتی ہے ، وہ بات یہ ہے کہ اگر ہم نے کسی فاتح کی حالات زندگی کا مطالعہ کیا تو آخر میں یہ بات پڑھنے کو ملتی ہے کہ صاحب نے تو اور بھی علاقوں کو فتح کرنا تھا لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور یوں مزید علاقوں کو فتح نہ کرسکے،مختلف شعراء کی زندگیوں کو پڑھا کہ انھوں نے بہترین کلام لکھے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور انکی ایک بہترین تصنیف لکھتے ہوئے ادھوری رہ گئی۔

کچھ سائنسدانوں کی زندگیاں بھی پڑھی ھیں لیکن آخر میں یہی بات لکھی نظر آئی کہ فلاں بہت اعلیٰ سائنسدان تھے ، آخری وقتوں میں اتنے اچھی اچھی ایجادات کیں بس وفات پا گئے ورنہ مزید بھی اچھی ایجادات کرنے والے تھے..
اسطرح جس بھی مشہور شخصیت کو پڑھا آخر میں یہی بات پڑھنے کو ملی کہ بس زندگی نہ رھی اور وفات پا گئے کیونکہ یہ کہنا کہ وقت نے مہلت نہ دی ، یہ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ رائیٹرز صاحبان تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ فلاں کام ادھورا چھوڑ کر چلا گیا..
گویا کسی کی زندگی میں تکمیل نظر نہ آئی..
لیکن میرے نہایت ھی محترم و مکرم قارئین کرام پوری تاریخِ انسانی میں ایک ایسی ہستی حضرت محمد مصطفٰی سید الانبیاءﷺ نظر آتے ہیں کہ جنہوں نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ پچیس ہزار صحابہ کرام سے پوچھا..
"
لوگو ، بتاؤ جو پیغام میں لیکر آیا تھا ، کیا وہ پیغام میں نے تم لوگوں کو پورا پورا پہنچا دیا؟"..
تمام صحابہ نےا یک زبان ھو کر کہا کہ..
"
جی ہاں ، آپؐ نے اپنا پیغام پورا پورا پہنچا دیا ہے۔"
تاریخ میں مجھے بس اپنے محبوب محمد ﷺ کی زندگی کامل نظر آئی جس کے آخر پر یہ نہیں لکھا کہ زندگی نے وفا نہ کی ورنہ  نبی کریم  حضرت محمدﷺ یہ کام بھی کرنے والے تھے۔میں ایسی ہستی کو اپنا محبوب اور قائد کیوں نہ مانوں جن کی کامل اور مکمل زندگی ہم سب کے سامنے ہے۔


Post a Comment

0 Comments