کیاآ پ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں؟

کیاآ پ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں؟
کیاآ پ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں؟urdu stories
کیاآ پ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں؟
ایک دفعہ کا ذکر  ہے کسی  شہر میں ایک مالدار سیٹھ رہتا تھا۔ اس کے پاس بہت زیادہ دولت تھی ، لیکن اتنے امیر ہونے کے باوجود  بھی وہ ہمیشہ ناخوش رہتا تھا۔ ایک دن وہ بہت پریشان ہوا اور وہ ایک درویش کے پاس گیا اور جیسے ہی درویش کے پاس پہنچا ، اس نے درویش کو اپنی ساری پریشانی بتا دی۔ درویش نے سیٹھ کی بات کو غور سے سنا اور کل اسی وقت اپنے پاس آنے کو کہا۔
یہ سن کر سیٹھ بہت خوش ہوا اور گھر چلا گیا۔ اگلے دن وہ درویش کے پاس گیا اور دیکھا کہ درویش سڑک پر کسی چیز کی تلاش میں مصروف ہے۔سیٹھ نے درویش سے پوچھا ، استاد جی آپ کس چیز  کی تلاش کر رہے ہیں ؟ درویش نے کہا کہ میرے ہاتھ کی انگوٹھی گر گئی ہے  میں اس کی تلاش کر رہا ہوں لیکن مجھے انگوٹھی نہیں مل رہی ہے۔
اب سیٹھ نے بھی اس انگوٹھی کی تلاش شروع کردی۔ جب زیادہ دیر  انگوٹھی نہیں ملی تو آخر سیٹھ نے درویش سے پوچھا ، استادمحترم  آپ کی انگوٹھی کہاں گری  تھی ؟ درویش نے جواب دیا کہ انگوٹھی میری جھونپڑی میں گم ہوئی  ہے وہاں بہت اندھیر ہے ، اسی لئے میں اس کی تلاش یہاں  کر رہا ہوں۔ درویش کی بات سُن کر سیٹھ حیرت زدہ  ہوا ۔۔۔ اور اس نے درویش سے کہا اگر آپ کی انگوٹھی جھونپڑی میں گری ہے تو آپ اسے یہاں  کیوں ڈھونڈ رہے ہیں؟ درویش نے مسکراتے ہوئے کہا ،  یہ کل والے  سوال کا جواب ہے۔ خوشی انسان کے  ذہن میں پوشیدہ ہے اور آپ اسے  دولت  میں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ آپ کی پریشانی کی وجہ ہے۔ آپ مال و دولت  کو خوش رہنے کی وجہ سمجھتے ہیں۔
ایک انسان مال و دولت  کے پیچھے اتنا  مگن ہو جاتا  ہے کہ وہ اپنی اصل  خوشی  بھول جاتا ہے۔


Post a Comment

0 Comments