کیا یہ سب مارکیٹنگ کا کمال ہے Kya ye markiting ka kamal hai

کیا یہ سب مارکیٹنگ کا کمال ہے Kya ye markiting ka kamal hai  
کیا یہ سب مارکیٹنگ کا کمال ہے Kya ye markiting ka kamal hai
کیا یہ سب مارکیٹنگ کا کمال ہے Kya ye markiting ka kamal hai  

میں سمجھتا  ہوں پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں   گرم یا سرد  تاثیر کے حساب سے چیزوں کو دیکھا جاتا ہے اس کے علاوہ دیگر ممالک میں ایسی کسی سُنی سنائی  اور فرضی باتوں  کو اہمیت نہیں دی جاتی، فلاں چیز گرم تاثیر رکھتی ہے فلاں ٹھنڈی رکھتی ہے ۔ حالانکہ سائنسی طور پر ان میں موجود غذائیت کو دیکھا جاتا ہے، گرم ٹھنڈے کو نہیں  ۔ وہ کونسی چیزیں ہیں جن کو لے کر عوا م کو  وہم میں ڈال دیا جاتا ہے۔



چھوٹا شہد ، بڑا شہد
گائے کا مکھن ، بھینس کا مکھن
گائے کا دودھ، بھینس کا دودھ، بکری کا دودھ، اونٹنی کا دودھ
دیسی انڈے، فارمی انڈے

اب ان چیزوں کی غذائیت میں کچھ خاص فرق نہیں ہوتا،  لیکن  کھانے والے کو ذائقے میں تھوڑا فرق ضرور محسوس ہوتا ہے ۔ اب اس وہم  کا فائدہ بہت سے حضرات اٹھاتے ہیں جیسا کہ شہد کی مثال لے لیں۔ چھوٹی مکھی کا شہد ، بڑی مکھی کے شہد  سے زیادہ مہنگا فروخت ہوتا ہے  اب  ان کے فائدوں کے بارے میں  مختلف قسم کی فرضی کہانیاں اور باتیں مشہور ہیں۔

اگر کوئی شخص کسی حکیم کے صاحب کے پاس دوائی لینے چلا جائے تو وہ حکیم صاحب کہیں گے یہ دوائی لے لیں، اتنے دن کھائیں  اور ساتھ میں شہد استعمال کریں۔ مریض دوائی استعمال کرنے کے بعد حکیم صاحب کے پاس  جائے گا ، حکیم صاحب پوچھیں گے  آرام آیا  ؟ اگر آرام نہیں آیا تو حکیم صاحب کہیں گے دوائی کے ساتھ کونسا شہد استعمال کیا تھا ؟



مریض ۔۔۔حکیم صاحب بڑی مکھی کا شہد ۔۔۔ اوہو بڑی مکھی کا شہد استعمال نہیں کرنا تھا چھوٹی مکھی کا شہد استعمال  کرنا تھا۔یہ تو تھی صورتحال اب  چھوٹے اور بڑے شہد میں ایسا کونسا فرق ہے جو ہمارے حکماء حضرات یا پھرگلی محلے میں پھرنے والے چاچا جی  کو معلوم ہے اور بڑی سے بڑی لیبارٹریاں اور سائنسدان خاموش ہیں۔حکماء حضرات سے معذرت۔۔۔

اب تک ہمارے ملک میں چھوٹاشہد اور بڑا شہد کا چورن   بیچا جاتا  ہے ، کیونکہ ابھی تک ہمارے لوگوں کو شہد کی مختلف اقسام کے بارے میں معلوم نہیں۔۔۔اگر معلوم ہو جائے تو نا جانے کیا ہو جائے ۔ کیونکہ شہد کی مختلف اقسام جیسا کہ نیم کا شہد ، جامن کا شہد، لیچی کا شہد، اجوائن کا شہد ، سرسو ں کا شہد  موجود ہیں جنہیں بیچا جاتا ہے ۔ 

ان شہد کی اقسام کو مختلف قسم کی بیماریوں میں استعمال کیا جاتا ہے ، اور ان کی مارکیٹنگ میں یہ بتایا جاتا ہے ہر قسم کے شہد کے اپنے فوائد ہیں۔ اس کے علاوہ شہد کے چھتے  سے حاصل ہونی والی بی پولن اور رائل جیلی کو بھی مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے  ، بی پولن اور رائل جیلی  فروخت کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ شہد سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔یہ سب مارکیٹنگ کی مختلف اقسام ہیں ۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کی نئی چیزں مارکیٹ میں فروخت ہونے کے لیے آتی رہتی ہیں، ان پروڈکٹس کو کامیاب کرنے کے لیے فوائد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے ۔


Post a Comment

0 Comments