ذمہ دار شخص بن کر کامیابی حاصل کریں responsible person

ذمہ دار  شخص بن کر کامیابی حاصل  کریں

ذمہ دار  شخص بن کر کامیابی حاصل  کریں  responsible person

ذمہ دار  شخص بن کر کامیابی حاصل  کریں

ذمہ دار لوگ وہ   ہوتے ہیں  جن پر بھروسہ کیا جا سکے، جن سے ہم بیوقوفی کی توقع نہیں کرتے ۔ ہماری عادات ہمیں یہ درجہ دلاتی ہیں اور یہ وہ خوبیاں ہیں جو ہم وقت کے ساتھ ساتھ سیکھتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ کچھ لوگ جلد ان خوبیوں کے حامل ہو جاتے ہیں اور کچھ ساری زندگی گزار  کر بھی غیر ذمہ دار رہتے  ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ ایک لمحے کے لیے رکیےاور قدرت نے آپ کو جو بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے ان کی گنتی کر کے دیکھئے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  ہمارے ہاں بہت سی محرومیاںموجود  ہیں، چند طاقتور لوگ بے شمار عام افراد کے حقوق کو دبائے بیٹھے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ہمیں اللہ تعالٰی نے بے شمار نعمتیں دے رکھی ہیں جن کے ذریعے یہ چھوٹی سی زندگی بڑی آسانی سے اچھے طریقے سے گزاری جا سکتی ہے،  اس لیے کہا گیا ہے " زندگی تو سستی  ہے بس گزارنے کے طریقے مہنگے ہیں" اپنی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش ہر شخص کو کرنی چاہیے ۔

اپناموازنہ  دوسروں سے کرنا اچھی عادت نہیں، ہر انسان اس دنیا میں اول پوزیشن حاصل کرنے یا کروڑپتی بننے نہیں آیا ۔ ہر شخص کی زندگی میں کامیابیوں کے ساتھ بے شمار ناکامیاں بھی ہیں، ہر کسی  کے ساتھ مسائل جڑے ہیں۔ یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا اور عام زندگی میں لوگ اپنی زندگی کے صرف مثبت پہلو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، اس لیے  ان مثبت چیزوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کے منفی پہلوؤں اور محرومیوں کا ان کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ موازنہ مت کریں، اس سے آپ کی زندگی میں صرف منفی جذبے اور منفی سوچ  آئے گی۔

ہم میں سے کچھ لوگ مشکل حالات میں آنکھ کھولتے ہیں اور کچھ کو دنیا کی ہر آسائش میسر ہوتی ہے، کہاں اور کن حالات میں پیدا ہونا ہے یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ساری زندگی محنت کرتے ہیں، حالات کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں ناکام ہو جاتے ہیں، ناکامی اور کامیابی بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی ۔ جو چیز ہمارے اختیار میں ہے و ہ  کوشش اور محنت کرناہے، ناکامی کے باوجود ایک نئے انداز میں زندگی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ہم میں سے کچھ لوگوں کو کامیابی آسانی سے مل جاتی اور کچھ کو سالوں کی مشقت کے بعدبھی حاصل  نہیں ہوتی ، ہمارا کام ہے خود کو، اپنے حالات کو بدلنے کی ذمہ داری لینا اور اس کے لیے کوشش کرنا۔

تو آخر کیسے ہم ایک ایسا انسان  بن سکتے ہیں جس کو لوگ ذمہ دار انسا ن سمجھیں ؟ کیسے ہم ایک ایسا انسان بن سکتے ہیں جو اپنے حالات کو خود بدل سکے؟ کیسے ہم غیر ذمہ دار انسان سے ذمہ دار انسان کا سفر طے کر سکتے ہیں؟ آج کی ویڈیو میں بات کریں گے ۔

دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں

ایک ذمہ دار شخص، جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ آپ اپنی اور اپنے پیاروں کی سہولت کو ضرور مدِنظر رکھیں لیکن اگر آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں تو ضرور کیجیے۔ آپ کو آسانیاں پیدا کرنے کے مواقع ہر روز، ہر لمحہ ملیں گے۔ سڑک پر گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے، دوسروں کو گزرنے کا موقع دے کر آپ ان کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی ضعیف کے لیے کرسی خالی کر کے آپ آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ تپتی دوپہر میں محنت کرتے مزدور کو ٹھنڈا پانی پلا کر آپ ان کے لیے آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ اور ہاں ذمہ دار شخص، اگر کسی کے لیے آسانی پیدا نہ کر سکے تو مشکل کا سامان ہر گز نہیں بنتا۔

کاروبار کریں

کاروبار ایسی چیز ہے جو آپ کے اند ذمہ داری پیدا کرتا ہے ، غیر ذمہ دار انسان کبھی بھی کامیاب کاروباری نہیں بن سکتا، اس لیے زندگی میں کاروبار ضرور کریں اس سے آپ میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو گا پھر  چاہے وہ کاروبار چھوٹا   ہی کیوں نہ ہو ۔

شکایات اور الزام تراشی سے گریزکریں

اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار معاشرے، نظام، حالات اور والدین کو ٹھہرانا ناکام، کمزور اور غیرذمہ دار افراد کا کام ہے۔ اگر آپ نے اس دنیا میں کچھ کر کے دکھانا ہے تو آپ کو اپنی ناکامیوں اور کامیابیوں کی ذمہ داری خود اپنے ہاتھ میں لینا ہو گی۔ آپ جہاں اور جیسے پیدا ہوئے یہ آپ کے اختیار میں نہیں تھا لیکن اپنے حالات کو بدلنا آپ کے اختیار میں ہے، پھر چاہے  اس کے لیے آپ کو کتنی ہی تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ اگر آپ خود کو ایک ذمہ دار شخص مانتے ہیں یا پھر ایک ذمہ دار شخص بننا چاہتے ہیں تو پھر آج سے ہی شکایات کرنا اور دوسروں کو الزام دینا چھوڑ دیں۔ اپنے اردگرد کچھ غلط دیکھتے ہیں اور اسے بدل سکتے ہیں تو بدل دیجیے، نہیں تو شکایت کرنا چھوڑ دیجیے۔ اگر کچھ غلط آپ کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہے اور اسے آپ بدلنے سے بھی قاصر ہیں تو متبادل تلاش کیجیے۔

اپنی زندگی میں ترتیب لائیں

ہر کامیاب اور ذمہ دار شخص کی زندگی میں ایک ترتیب ہوتی ہے۔ ہمیں روزانہ  زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق بے شمار کام سرانجام دینے ہوتے ہیں، بے شمار ملاقاتیں، وعدے، خریداری، گھر کے کام، دفتر کے کام اور پتا نہیں کیا کیا۔ یہ سب ممکن نہیں ہو گا جب تک آپ منصوبہ بندی نہیں کریں گے، ضروری کاموں کی فہرست نہیں بنائیں گے، سالانہ، ، ماہانہ، ہفتہ وار اور روزانہ کی بنیاد پر منصوبہ بندی نہیں کریں گے۔ محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے  کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی زندگی کو منظم کریں۔

بہانے بنانا چھوڑ دیں

ذمہ دار شخص کاموں کو مقررہ وقت کے اندر سرانجام دیتے ہیں۔ آپ کوئی بھی کام شروع کریں گے، آپ کو مختلف  قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے میں ذمہ دارشخص ان مسائل کا حل ڈھونڈتا ہے جب کہ غیر ذمہ دار شخص ٹال مٹول شروع کر دیتا ہے، کام نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اگر آپ ایک ذمہ دار شخص بننا چاہتے ہیں تو آپ کو بہانے بنانے کی عادت سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔

پیسے کی منصوبہ بندی

آپ تب تک ایک ذمہ دار شخص کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے جب تک آپ پیسے کمانے ،  بچت کرنے ، خرچ کرنے اور  پیسے سے پیسہ کمانے کا ہنر نہیں سیکھ جاتے۔ پیسہ کمانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے اگر آپ کو آتا نہیں اور آسان ترین ہے جب آپ پیسہ کمانے کا ہنر سیکھ جاتے ہیں۔ پیسے  کمانے کے ساتھ ساتھ آپ کو پیسہ خرچ کرنے اور بچت کرنے کا بھی علم ہونا چاہیے اور سب سے اہم یہ کہ جو پیسہ آپ نے کمایا ہے اس کو انویسٹ کر کے کیسے مزید پیسا کمانا ہے۔

وقت کی پابندی

ہم میں سے ہر شخص کے پاس محدود وقت ہے، اس محدود وقت میں ہر کام نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ہر کسی کے کام آیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں خود سے اور دوسروں سے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرنے کے وعدے نہیں کرنے چاہیں۔ ایک ذمہ دار شخص عہد سوچ سمجھ کر کرتا ہے لیکن اگر کسی کام کو کرنے کا منصوبہ بنا لے، اس کے لیے وقت مختص کر دے تو اس کو ہر حال میں وقت پر پورا کرتا ہے۔

اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں

غلطیاں ہر  انسا ن سے ہو جاتی ہیں اور ہماری غلطیاں ہمیں کچھ نیا سکھاتی ہیں، زندگی میں آگے بڑھنے کی راہ دکھاتی ہیں۔ ایک ذمہ دار شخص سے جب کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا ہے، ان غلطیو ں  سے سیکھتا ہے اور آئندہ سے انہیں  نہ دہرانے کا عہد کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک غیر ذمہ دار شخص اپنی غلطی کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے یا پھر اپنی غلطی پر ڈٹ جاتا ہے اور اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے کبھی  بھی انسان سیکھ نہیں سکتا ۔

اپنے خیالات اور سوچوں کی ذمہ داری قبول کریں

ہماری سوچیں ہماری شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک ذمہ دار شخص کو اپنے خیالات پر مکمل طور پر قابو ہوتا ہے۔ بیرونی عوامل ہمارے ساتھ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا لیکن ہم اپنی سوچوں کو اپنے قابو میں لا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی  شک نہیں کہ جب انسان پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں تو مثبت انداز میں سوچنا  نا ممکن ہو جاتا ہے، لیکن منفی انداز میں سوچ کر کیا ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہم اپنی سوچوں کو مثبت بنا کر ایک ذمہ دار انسان بن سکتے ہیں۔

  

Post a Comment

0 Comments