دو نوافل کے بدلے قیمتی چیز حاصل کریں

دو نوافل کے بدلے قیمتی  چیز  حاصل کریں

دو نوافل کے بدلے قیمتی  چیز  حاصل کریں

دو نوافل کے بدلے قیمتی  چیز  حاصل کریں

مالک بن دینار ؒ کہیں جارہے تھے کہ ان کی نظر ایک  باندی پر پڑی ،  وہ  بڑی خوبصورت تھی اور ٹہلتی ہوئی چل رہی تھی۔ چند غلام بھی باندی کے ساتھ تھے ان کے دل میں خیال آیا کہ اس کو سبق سکھائیں آپ  قریب ہوئے اور کہنے لگے اے باندی!کیا تجھے تیرا مالک بیچتا ہے؟ وہ ہنسی کہ دیکھو مجھے دیکھ کر بوڑھے بھی جوان ہوگئے ہیں،

 

آپ کیوں پوچھ رہے ہیں جی ؟ آپ ؒ کہنے لگے میں تمہیں خریدنا چاہتا ہوں  باندی کہنی لگی،  اچھا تم  میرے ساتھ  چلو ۔۔۔اوروہ اپنے غلاموں کو کہنے لگی اس بوڑھے کو ساتھ لے کر چلو ہم جاکر اپنے مالک کو بتائیں گے کہ دیکھو میری شکل دیکھ کر ایسے بوڑھے بھی میرے خریداروں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ، مالک بن دینار ؒ  بھی  ان کے ساتھ ساتھ چلتے رہے حتیٰ کہ اس کے مالک  کے گھر پہنچ گئے، اس باندی نے مسکرا  کر نازو  نخرے سے اپنے مالک سے کہا کہ آپ بتاؤ یہ بوڑھا مجھے خریدنا چاہتا ہے،  اس کا مالک  ہنسنےلگااور ہنستے ہوئے کہنے لگا کیوں بڑے میاں! اسے خریدنا چاہتے ہو؟ مالک بن دینارؒ  نے فرمایا جی  میں خریدنا چاہتا ہوں۔۔۔

باندی کے مالک نے کہا کہ آپ بتاؤاسے کتنے میں خریدنا چاہو  گے؟ کہنے لگے میں تو چند خشک کھجوروں کے بدلے خرید وں گا،  باندی کا مالک بڑا حیران ہوا کہ ایسی خوبصورت پری چہرہ باندی اور یہ کہہ رہا ہے  کہ میں چند خشک کھجوروں کے بدلے خریدوں گا،  باندی کے مالک  نےآپ ؒ سے  کہا کیوں بھئی!آخر  اتنی تھوڑی قیمت کیوں؟ آپ ؒ کہنے لگےدراصل  اس میں عیب بہت زیادہ ہیں،  باندی کا مالک  بڑا حیران ہوا کہنے لگا بھئی کون سے عیب ہیں، آپ ؒ  کہنے لگے کہ اس کا جو حسن ہے وہ عارضی ہے، تھوڑے دنوں کے بعد یہ بوڑھی  ہوجائے گی  اس کی شکل دیکھنے کو دل نہیں کرے گا اور دوسری بات اگر یہ چند دن نہ نہائے تو بدن سے پسینے کی بو آنے لگ جائے گی،

اس کے سر میں جوئیں پڑجائیں گی نزلہ وزکام کی وجہ سے ناک بہتی رہے گی۔ اس کا پاخانہ روز نکلتا ہے اور پھرسب سے بڑی بات کہ یہ مطلب پرست ہے اب تو آپ کے پاس ہے آپ ذرا سی آنکھ بند کریں گےتو یہ کسی اور کی بن جائے گی تو ایسی بے وفا اور ایسی فنا ہونے والی چیز کی میں تو اتنی ہی قیمت دوں گا  اس سے زیادہ قیمت میں نہیں دے سکتا، اس شخص نے حیران ہو کر  کہا مگر آپ نے یہ تھوڑی سی قیمت بھی کیوں لگائی؟ آپ ؒ کہنے لگے اس وجہ سے کہ مجھے ایک باندی ملتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے ایسا حسن دیا کہ جب وہ اپنا دوپٹہ آسمان کی طرف کردے تو سورج کی روشنی بھی  ماند پڑجائے اگر وہ مردے سے کلام کرے

تو مردہ بھی  زندہ ہوجائے! اگر کھارے پانی میں تھوکے تو  وہ پانی بھی میٹھا ہوجائے  جولباس پہنے اس میں سے  ستر رنگ جھلکیں اور اس کے اندر اتنی خوبصورتی ہمیشہ کیلئے ہے اور اس کے دل کے اندرچھپے  اس کی محبت اور وفا کے جذبات کو آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے. یہ باندی  آخری رات کو دو نفل پڑھنے پر بندے کو مل جاتی  ہے ، جب دو نفلوں پر ایسی چیز ملتی ہے تو پھر اس باندی کی تو میں نے چند کھجوریں بھی زیادہ ہی قیمت لگادی ہے۔

  

Post a Comment

0 Comments