کسی بھی انسان کی اصل طاقت کیا ہے Insan ki asal taqat

کسی بھی انسان کی اصل طاقت کیا ہے  Insan ki asal taqat

کسی بھی انسان کی اصل طاقت کیا ہے  Insan ki asal taqat

کسی بھی انسان کی اصل طاقت کیا ہے  Insan ki asal taqat

انسان کی اصل طاقت خود سے جیتنا ہے،   جیسے غصہ آپ کی اپنی ہی کیفیت ہوتی ہے،  آپ کمزور ہوئے تو غصہ جیت جائے گا،  آپ طاقتور ہوئے غصے پر قابو پا لیں گے اور  غصہ ہار جائے گا اور  آپ جیت جائیں گے، ہم زندگی بھر خود سے برسر پیکار ہوتے ہیں،  لالچ، جھوٹ، فریب اور خوف ہماری ہی کیفیات ہوتی ہیں،  ہم خوفزدہ ہو جائیں تو خوف جیت جاتا ہے، ہم خوف پر قابو پالیں تو ہم جیت جاتے ہیں،  ہم علم کے طالب بنیں تو جہالت ہار جاتی ہے،  آپ کتنے طاقتور ہیں..؟ آپ کتنے کمزور ہیں..؟ یہ طے کرنے کیلئے آپ کو کسی ٹورنامنٹ کی ضرورت نہیں نہ کوئی میڈل ضروری ہے،  یہ  ہر وقت ہونے والا مقابلہ ہے ۔

ایک معروف عرب مفکر ڈاکٹر علی طنطاوی مرحوم لکھتے ہیں میں ایک دن ٹیکسی پر ائیرپورٹ جا رہا تھا،ہم سڑک پر اپنی لائن میں  جا رہے تھے کہ ایک شخص بہت  تیزی  کے ساتھ   گاڑی  کو  دوڑاتا  ہوا   روڈ پر   آ گیا،ٹیکسی  ڈرائیور نے  جلدی سے  بریک دبا دی اس طرح  ہم  حادثے سے  محفوظ  رہے،   بڑی  مشکل سے  کار  ہماری  ٹیکسی   سے  ٹکراتے  بچی  ،   ہم  ابھی  اس جھٹکے سے    باہر  نہیں   نکلے  تھے     کہ  کار  میں موجود شخص ہم  پر چیخنے  چلانے لگا ٹیکسی  ڈرائیور کو خوب   باتیں سنائی ،  ٹیکسی  ڈرائیور نے  بجائے اس  سے بحث کرنے کے  اس شخص سے  معذر ت کر لی  اور  مسکراتے ہوئے  ٹیکسی  چلانی  شروع  کردی ،

مجھے ٹیکسی  ڈرائیور کے اس رویے  پر  بہت  حیرت  ہوئی  میں نے اس سے پوچھا کہ  ہم  ایک  حادثے سے بمشکل  بچ پائے ہیں  اوپر سے  اس کار میں سوار شخص نے آپ کو  بہت   باتیں  سنائی   پھر بھی  آپ نے  معافی  مانگ لی ؟

ٹیکسی  ڈرائیور نے  جو  بات   کہی  وہ ہم سب کیلئے  کسی  سبق سے کم نہیں  ، کہنے  لگاکچھ لوگ  ایسے  ہوتے  ہیں  جو کچرے  سے  بھرے ہوئے  ٹرک  کی  مانند ہوتے ہیں  وہ  اپنے اندر موجود  گندگی کو  اپنے اوپر  لاد کر گھوم  رہے ہوتے ہیں ، ایسے لوگ   مایوسی ، غصہ   اور بہت سے  مسائل  اپنےاندرلیے  پھر رہے ہوتے ہیں، ان لوگوں کو  اپنے اندر موجود  کچرے اور گند کو  خالی کرنے کی ضرورت ہوتی  ہے ،  یہ لوگ  اس  گند کو  پھینکنے  کیلئے کسی  جگہ کی تلا ش میں  ہوتے ہیں  ان  کو جہاں جگہ ملتی ہے  یہ  اپنی گندگی  وہاں  پھینک دیتے ہیں،  ہمیں کیا ضرورت  ہے  کسی  کیلئے  ڈسٹ  بن   یا کچرا دان  بننے کی  ہم  کسی    کیلئے ایسا  کیوں کریں؟

 اگر اس طرح کے لوگوں سے  کبھی  زندگی میں  سامنا ہو  تو  ان     کی بات کا جواب  دینے  اور بحث کرنے کی بجائے مسکرا کر  آگے  گزر جائیں ،  اور اللہ سے  دعا  کریں  کہ  انہیں  ہدایت  ملے ۔عربی حکایات سے منقول ایک معروف قصہ

  

Post a Comment

0 Comments