کامیابی چاہتے ہیں تو شاہین بنیں غلامی کی سوچ سے نکلیں

کامیابی چاہتے ہیں تو  شاہین  بنیں غلامی  کی سوچ  سے نکلیں

کامیابی چاہتے ہیں Kamyabi

کامیابی چاہتے ہیں تو  شاہین  بنیں غلامی  کی سوچ  سے نکلیں

چند صدیاں پیچھے چلے جائیں، افریقہ کے ساحلوں سے ڈچ اور انگریز جہاز راں اپنے جہازوں کے عرشے کے نیچے اجناس بھر لیتے تھے. عرشے کے اوپر جہاز کی ریلنگ کے ساتھ چہار اطراف افریقی غلام زنجیروں سے باندھ دئے جاتے. غلاموں کی اس خریدوفرخت کا حساب بہت آسان تھا،  آدھے غلام بھی اگر زندہ سلامت منزل  تک پہنچ گئے تو سودے میں نقصان نہیں ہو گا،

غلاموں کے تاجر اس سودے کیلئے افریقی دیہاتوں میں جاتے تو صحت مند "غلاموں " کو زنجیروں میں جکڑ کر بندرگاہ کی طرف بلکل ایسے ہی دھکیلتے  جیسے یہ  انسان نہیں بلکہ مویشیوں کا ویوڑ ہوں،  ان  جہازوں پر غلاموں کی زندگی کا فیصلہ بے رحم  موسم کیا کرتے تھے،  موسم خراب ہوا یا پھر  کوئی بیمار ہوا تو اسے زندہ سمندر میں پھینک دیا جاتا،  سفر طویل ہوا پانی راشن کی کمی ہوئی تب بھی کمزور نظر آتے غلام کو  زندہ  سمندر میں  پھینک  دیا  جاتا۔

جو زندہ بچ جاتے ان کیلئے یورپ امریکہ کی ایک غلامانہ  مشقت بھری غلام زندگی انتظار کر رہی ہوتی  تھی ،  غلامی اس لئے مایوسی کا نام ہے،  غلامی کی زنجیر مایوسی کی زنجیر ہے،  غلاموں کی خریدوفروخت  اب دنیا میں نہیں ہوتی  لیکن ذہنی اور شعوری غلامی آج بھی عروج پر ہے،  کسی بُری  عادت کا شکار  انسان بھی کونسا آزاد ہوتا ہے،  اپنی زندگی کے جہاز کے عرشے پر گندگی میں لتھڑا عادت کی زنجیر سے بندھا غلام ہی ہوتا ہے،  بس اسے زنجیر کسی دوسرے نے نہیں بلکہ اس نے  اپنی خواہش  پر پہنی ہوتی ہے۔

غلامی کی اس مایوس قسم کو learned helplessness کہتے ہیں،  یعنی آپ کو پتہ بھی ہے کہ یہ سراسر نقصان کا سودا ہے لیکن آپ اپنی یہ عادات چھوڑ بھی نہیں سکتے،  کیونکہ آپ اپنے ہی ذہن کے غلام بن چکے ہوتے ہیں،  یہ غلامی یہ تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتی کہ اس غلامی سے چھٹکارا بھی ممکن ہے،

مزید پڑھیں: کامیابی چاہتے ہیں  تو یہ کا م کریں 

کبھی  آپ نے شاہین کو شکار کرتے  دیکھا ہے ؟ فضا میں تیرتا شاہین زمین پر رینگتے کسی سانپ کو جب دیکھ لیتا ہے تو اسے شکار کرنے کیلئے غوطہ لگاتا ہے،  کچھ  سانپ زہریلے  بھی ہوتے ہیں  اگر یہ کسی چیز کو لپٹ جائیں  تو اس کی ہڈیوں کا سرمہ  بھی بنا دیتے ہیں، سانپ میں ایک صلاحیت اور بھی ہے، یہ اپنے منہ سے بڑی کسی بھی چیز کو آسانی  سے  نگل سکتا ہے ،

لیکن شاہین اس سے دو بدو لڑنے نہیں آتا، وہ سانپ کو پنجوں میں اٹھا کر بلندیوں کی طرف نکل جاتا ہے،  وہ سانپ کو اس میدان کی طرف اٹھا لیتا ہے جس میدان کا وہ خود کو چیمپئن سمجھتا ہے،  بلندی پر لے جا کر شاہین اپنے پنجے کھول دیتا ہے، تیزی سے زمین کی طرف آتا سانپ شاہین کا کھانا بننے کے علاوہ  کچھ  بھی نہیں کر سکتا،

اس دنیا میں ہر انسان اپنے حصے کی طاقت و قوت لے کر آیا ہوتا ہے،  آپ اپنی طاقت کو پہچان لیں ، کوئی انسان کمزور نہیں ہوتا، انجانے میدانوں کی ناکامیاں سانپوں کی طرح لپٹ کر ہمیں احساس دلاتی  ہیں تم کمزور ہو، شاہین کی طرح اپنی صلاحیت کے میدان کو پہچان لیں،  یہی صلاحیتیں آپ کی قوت اور آپ کی پہچان بنتی ہیں۔

 

 

  

Post a Comment

0 Comments