مجھے بیوقوف مت سمجھو mujhe bewaqoof mat samjho

مجھے بیوقوف مت سمجھو  mujhe bewaqoof mat samjho

مجھے بیوقوف مت سمجھو  mujhe bewaqoof mat samjho

مجھے بیوقوف مت سمجھو  mujhe bewaqoof mat samjho

یاسر گاؤں میں رہنے والا ایک عام سا لڑکا  تھا، مڈل پاس تھا   اور شکل وصورت  بھی کچھ خاص نہیں تھی ،  اچھی تعلیم  نہ ہونے کی وجہ سے  کوئی  خاص  نوکری  بھی نہیں  تھی  جو محنت  مزدوری ملتی تھی  کر لیتا تھا،   گھر والوں نے یاسر کی شادی کا پروگرام  بنایا تو  وہ اس بات پر بضد تھا کہ  شادی کرے گا تو  اپنی کزن سے  ہی  کرے گا، گھر والوں نے اسے  بہت سمجھایا کہ  تم  کم پڑھے لکھے  ہو  اور تمہاری  کزن  زیادہ  پڑھی لکھی ہے  ، تمہاری  شادی  کے لیے  نہ تو لڑکی مانے  گی اور نہ  ہی اس کے  گھر والے ۔۔۔

یاسرضد کا  پکا  تھا آخر کار  گھر والوں نے  مجبور ہو کر  رشتہ مانگا،  لڑکی والوں کی کافی منتیں کرنا پڑی ، لڑکی والوں نے   اپنی  بیٹی  سے  پوچھا تو اس نے شادی کے لیے ہاں کر دی  ، یوں رشتہ  طے پا گیا، چند ماہ  بعد شادی ہو گئی ،  شادی کے  بعد لڑکی کو معلوم ہوا  میرا خاوند   معمولی  شکل  وصورت کے ساتھ  کم عقل  بھی ہے،  وہ  کافی پریشان  رہنے لگی  ، اس طرح کے شخص کے ساتھ کیسے    پوری  زندگی گزار پاؤں گی ، شادی  کے  بعد  لڑکیاں اپنے گھروالوں کو ملنے  جاتی ہیں  ،       یاسر  اپنی بیوی کے ساتھ   سسرال  جانے کیلئے  نکل  پڑتا ہے ،  لیکن اس کی بیوی  دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ  کاش  اسے  دوبارہ  اس گھر میں نہ آنا پڑے ۔

راستے میں لڑکی کے ذہن میں ایک ہی بات  چل رہی تھی کہ  اپنے  شوہر سے  جان  کیسے  چھڑائی  جائے ، گھر والو ں کو  بھی نہیں  بتا سکتی تھی  ایک تو  شادی  نئی  نئی ہوئی  تھی  اوپر سے    قریبی   راشتہ  داروں میں ہوئی  تھی ، گھر والے   کبھی  بھی نہ مانتے ، انہیں ایک گاؤں سے  دوسرے  گاؤں میں جانا تھا ، راستے میں  یاسر کو پیاس  محسوس ہوئی  ، راستے  میں ایک کنوں تھا ،  یاسر نے   سامان ایک طرف رکھ کر   کنوئیں سے   پانی  پینے کیلئے  ڈول  کنوں میں ڈال  دیا ،  اس کی بیوی  کے ذہن  میں فوری  طور پر شیطانی  آئیڈیا  آیا  اور اس نے  یاسر کو کنوئیں  میں دھکا  دے دیا۔

دھکا   شدید  تھا  یاسر  خو د  کو  سنبھال نہ پایا  اوروہ  کنوئیں میں گر گیا،   لڑکی نے سوچا اب  یہ مر چکا ہے   ، اس نے اپنا سامان اٹھایا اور گھر کی طرف روانہ ہو گئی  ، گھر پہنچ کر ا س نے ماں باپ کو  بتایا کہ  اس کا شوہر  اسےبیچ راستے میں چھوڑ کر  کہیں  چلا  گیا  ،  میں اکیلی تھی، مجھے ڈر لگنے لگا، کوئی غیر مرد آ جاتا تو میرا کیا ہوتا؟مجھے جان کا بھی خطرہ تھا اور عزت کا بھی خطرہ تھا، وہ تو بڑا بے پروا سا آدمی ہے۔ اس لیے میں گھرآ گئی ہوں۔

مزید پڑھیں: انسان کی قیمت  کیا ہو سکتی ہے

یہ سن کر ماں باپ کو بھی بڑا غصہ آیا کہ اس نے ہماری بیٹی کو اس طرح لاوارث چھوڑ دیا اور خودکہیں چلا گیا، یہ ایسا بے وقوف انسان ہے۔ جب یاسر کنویں میں  گرا تو جان بچانے کے لیے اس نے ہاتھ پاؤں مارے تو اس کا ہاتھ اس رسی پر پڑ گیا جس کے ساتھ ڈول بندھے ہوتے تھے۔اس نے رسی  کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور ڈوبنے سے بچ گیا، اس نے ہمت کرکے  کنویں سے باہر نکلنے کی کوشش کی کاٖفی مشقت اور    ذور لگانے کے  بعد  وہ کنویں سے نکلنے میں کامیاب  ہو گیا۔

کنویں سے نکلنے کے بعد اس نے سوچا  اب کیا کرنا  چاہیے ، اسے  اپنی بیو ی   سے  ایسا  بُرا کام  کرنے کی امید  نہیں  تھی  وہ کافی  پریشان   تھا، آخر اس نے سسرال  جانے کا فیصلہ کیا ، جیسے ہی سسرال والوں  کے گھر میں  داخل ہو اتو   انہوں  نے اسے کافی  جلی کٹی باتیں سنائی ۔تم  کیسے بیوقوف انسان ہو ہماری  بیٹی کو   راستے میں چھوڑ کر  کہیں   چلے گئے  ! تم  بے پرواہ انسان ہو  تمہیں اپنی بیو ی کا ذرہ   بھی احساس  نہیں  ہے۔ انہوں نے جو کچھ کہا، یاسر  نے خاموشی سے سنا اور آخر میں صرف اتنا کہا کہ ہاں مجھ سے غلطی ہو ئی ہے ۔ بہرحال آپ اپنی بیٹی کومیرے ساتھ بھیج دیں۔

جب انہوں نے دیکھا کہ یاسر بہت شرمندگی کا اظہار کر رہا ہے تو انہوں نےاپنی  بیٹی سے کہا، اس سے غلطی ہو گئی ہے اس   کو معاف کر دو  اور  کھانا کھانے کے  بعد  گھر جانے کی  تیاری کرو۔کھانا کھانے کے بعد  دونوں میاں  بیوی  گھرکی طرف  چل پڑے  ، لیکن  بیوی کے ذہن میں  ایک بات بار بار آنے لگی کہ یہ کم پڑھا لکھا   تھا، کم عقل تھا ، شکل بھی  اچھی نہیں تھی، مگر اس نے میرے ماں باپ کے سامنے میرا عیب تو چھپایا ہے، اس کا دل بڑا ہے ،  اگر یہ میرے ماں باپ کو میری  یہ   حرکت  بتاتا  تو میں ماں باپ کو چہرہ دکھانے کے قابل نہ رہتی، میرے ماں باپ کی پوری برادری میں رسوائی ہوتی ۔ اس ایک بات پر لڑکی کے دل میں خاوند کی ایسی محبت پیدا ہوئی کہ اس نے اپنی باقی پوری زندگی اپنے شوہر کی محبت میں گزار دی۔

  

Post a Comment

0 Comments