Na shukri mat karen ناشکری مت کریں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں

Na shukri mat karen ناشکری مت کریں ہر حال میں اللہ  کا شکر ادا کریں

Na shukri mat karen ناشکری مت کریں ہر حال میں اللہ  کا شکر ادا کریں

Na shukri mat karen ناشکری مت کریں ہر حال میں اللہ  کا شکر ادا کریں

تاریخ  کی کتابوں میں   یہ واقعہ  موجود ہے ،  حضرت لقمان  ایک  رائیس   کے غلام  تھے ،  آپ اس رئیس  کی  بہت  خدمت کیا کرتے تھے ،  یہ  رئیس  آپ کی نوکری   ،  عقل مندی  اور ایمانداری سے  بہت  خوش تھا،   آپ کی  بہت  عزت کرتا تھا،  یہ  رئیس  تجارت  کے  شعبے سے  وابستہ تھا، یہ   جب بھی دسترخوان  پر کھانا کھانے بیٹھتا حضرت  لقمان کو  بھی ساتھ  بٹھا لیتا اور اپنے ہاتھ سے  کھانا  پیش کرتا، ایک  دن  اس رئیس  نے  کہیں سے ایک  خربوزہ منگوایا ،  اور  بڑے  پیار سے   خربوزے  کا  ایک ٹکڑا کاٹ کر  حضرت لقمان  کو پیش کیا، آپ نے وہ ٹکڑا  کھایا ،   رئیس نے پوچھا  اس کا ذائقہ کیسا ہے ؟

حضرت  لقمان نے جواب  دیا کہ  الحمدللہ  اس کا ذائقہ بہت  اچھا ہے ،  آپ کی دی ہوئی چیز پھیکی کیسے ہو سکتی ، رئیس بہت خوش ہوا،  ایک اور  قاش  کاٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کی، آپ نے وہ بھی کھا لی  ، اسی طرح رئیس قاشیں کاٹتا رہا اور آپ کو پیش کرتا رہا اور آپ کھاتے رہے اور تعریف کرتے رہے ، جب آخری قاش بچ گئی تو رئیس کے دل میں آیا کہ اتنا میٹھا خربوزہ مجھے بھی چکھنا چاہیے جیسے ہی اس نے قاش منہ میں رکھی فورا تھوک دی ، خربوزہ تو انتہائی کڑوا تھا ، رئیس بڑا حیران ہو ا اور اس نے حضرت سے پوچھا کہ حیرت ہے آپ اتنا کڑوا خربوزہ میٹھا کہہ کر کھاتے رہے؟

کیا وجہ تھی کہ آپ نے مجھے بتایا نہیں ، حضرت لقمان نے سر جھکا لیا اور آہستہ آواز میں بولے آقا میں نے آپ کے ہاتھوں سے دنیا کی شاندار نعمتیں کھائی ہیں یہ پہلی نعمت تھی جو ذرا سی کڑوی تھی ، میری غیرت نے گوارہ نہیں کیا کہ ایک ایسے شخص سے شکایت کروں جس نے ہمیشہ مجھے پہلے کھلایا اور بہت اچھا کھلایا ۔ آقا میں آپ کے مہربان ہاتھوں سے زہر تک کھا سکتا ہوں یہ  کڑوا خربوزہ کیا چیز ہے ، یہ سن کر رئیس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

مزید پڑھیں:              کسی کو کمزورمت سمجھنا

ہم میں سے ہر کسی  کی زندگی میں تکلیفیں  پریشانیاں  ہوتی ہیں  ، ہم  بہت  جلد مایوس ہو کر  اللہ سے  شکوے  شکایتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں ،  ہم یہ بھول  جاتے ہیں  کہ  ہمیں  ہزاروں  نعمتیں میسر ہیں ،   جو ہم  استعمال  کرتے ہیں، لیکن  ذرہ  سی  تکلیف  ، بیماری   کی صورت  میں  شکوے  کرنا شروع کر دیتے ہیں ، غیرت کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ہم جس مالک کی اتنی نعمتیں استعمال کرتے ہیں اس کی طرف سے آنے والی تھوڑی سی مصیبت میں بھی ناشکری مت کریں اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کریں۔

  

Post a Comment

0 Comments