اگر آپ کا شرافت سے کام نہ بنے تو یہ کام کریں

اگر  آپ کا شرافت  سے کام  نہ بنے تو  یہ  کام کریں

اگر  آپ کا شرافت  سے کام  نہ بنے تو  یہ  کام کریں

اگر  آپ کا شرافت  سے کام  نہ بنے تو  یہ  کام کریں

ایک گاؤں کی مسجد  کے مولانا صاحب  بہت رحمدل انسان  تھے ان کو امامت کے فرائض  انجام  دینے کے  بدلے  تھوڑے  سے پیسے  مل جاتے تھے اس کے علاوہ  ا ن کا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ تھا گاؤں میں رہتے ہوئے گزارہ بہت مشکل تھا ۔اسی گاؤں میں ایک  نیک دل زمینددار بھی رہتا تھا، اسے مولانا صاحب پر ترس آیا اور اس نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتےہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ہو جائے ۔

 مولانا  صاحب نے گندم کاشت کرلی اور جب فصل ہری  بھری ہوئی  تو  اسے دیکھ کرمولانا صاحب کو  بڑی خوشی ہوتی تھی،  اس لئے دن کا اکثر وقت وہ اپنے  کھیت میں ہی بیٹھے رہتے اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتےرہتے لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے آن گھیرا گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی ہری  بھری فصل کی راہ  دیکھ لی ،   گدھا روزانہ کھیت میں آنے لگا اور فصل برباد کرنے لگا،

مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا  باز نہ آیا ۔پھر مولانا صاحب نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیں لیکن گدھا پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ایک دن مولانا صاحب  پریشان حال بیٹھے گدھے کو محنت سے  لگائی گئی فصل اجاڑتے دیکھ رہے تھے کہ وہاں  سے ایک کسان کا گزر ہوا۔

گدھے کواس طرح فصل برباد کرتے  دیکھ کر کسان نے پوچھا ،  مولانا صاحب  آپ عجیب آدمی ہیں گدھا فصل تباہ کر رہا ہے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟مولانا صاحب نے  دل برداشتہ ہو کر کہا  کہ جناب ہاتھ پر ہاتھ دھرے کہاں بیٹھا ہوں؟ ابھی تک ایک مرغی اور ایک بکرے  کا صدقہ دے چکا ہوں اور کل سے آدھا قرآن شریف بھی پڑھ کر پھونک چکا ہوں لیکن گدھے پر کوئی اثر نہیں ہو رہا، مجھے تو یہ  گدھا کافر لگتا ہے ، جس پر کوئی شے اثر نہیں کر رہی ،

 کسان کے ہاتھ میں ایک مضبوط  سا ڈنڈا تھا وہ سیدھا گدھے کے پاس گیا اور گدھے کو تین چار ڈنڈے کس کر مارے تو گدھا  درد کے مارے کسی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا کھیت سے بھاگ  گیا،  کسان نے کھیت سے باہر آکر ڈنڈا مولوی صاحب کے حوالےکرتے ہوئے کہا ، قبلہ مولانا  صاحب قرآن مجید  گدھوں کو بھگانے کیلئے نازل نہیں ہوا،  گدھوں کو بھگانے کیلئے اللہ پاک  نے یہ ڈنڈا بھیجا ہے،

 ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ ہمارے حکمران  اس گدھے کی طرح  جو مولانا صاحب کی فصل اُجاڑ رہا  تھا  ملک کے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے لوٹے چلے جاتے ہیں اور ہم مولانا صاحب کی طرح صرف دعاؤں اور صدقات و خیرات کے بل بوتے پہ ان گدھوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔جب تک قوم ان لٹیروں سے نجات کیلئے ڈنڈا استعمال نہیں کرے گی یہ گدھے ملک و قوم کے تمام وسائل یونہی لوٹتے اور برباد  کرتے رہیں گے۔

  

Post a Comment

0 Comments