کیا آپ یہودیوں کے ذہین ہونے کی وجوہا ت جانتے ہیں zaheen hone ki wajuhat

کیا آپ یہودیوں کے ذہین ہونے  کی وجوہا ت جانتے ہیں   zaheen hone ki wajuhat

کیا آپ یہودیوں کے ذہین ہونے  کی وجوہا ت جانتے ہیں   zaheen hone ki wajuhat

کیا آپ یہودیوں کے ذہین ہونے  کی وجوہا ت جانتے ہیں   zaheen hone ki wajuhat

یہودی اس  وقت  دنیا میں  اپنی قابلیت اور  پیسے  کی وجہ سے  دوسری قوموں کی  توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ، اس  ترقی  کے  پیچھے  غیر معمولی  وجو ہات ہیں ،  یہ سوال اہم ہے  کہ  یہودی  خواتین  کیا کھاتی اور کیا کچھ پیتی ہیں؟ جس کی وجہ سے یہودی خواتین  دنیا کی ذہین ترین بچے پیدا کرتی ہیں،  ایک تجربے کار سائنسدان نے اسرائیل میں اپنی زندگی کے تین سال گزارے ۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں اس بات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی کہ یہودی عورتیں حمل کے دوران ایسا کیا کرتی ہیں؟ کہ دنیا میں سب سے زیادہ ذہین بچے اسرائیل ہی میں پیدا ہوتے ہیں ۔

اس نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ اس سب کی وجہ یہودیوں کا ایک خاص طرز زندگی ہے  جو نسلوں سے ان کے اندر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جب بھی نئی نسل آتی ہے تو اس خاص طرز ندگی  کی وجہ سے ان میں  کمال درجے کی خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ سٹیفن کہتے ہیں یہودیوں میں جو اضافی خوبیاں ہیں،  وہ خدا کی طر ف سے نہیں ہیں خداداد صلاحیتیں اتنی ہوتی ہیں جتنی ایک عام انسان میں ہوتی ہیں۔ لیکن یہودی اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے قابلیت او ر صلاحیت کو اس طرح پیدا کرتے ہیں جیسے کسی بھی فیکٹری سے پروڈکٹس تیار ہوکر آرہی ہے۔

سٹیفن نے اس تحقیق میں یہودی طرز زندگی کا مشاہدہ کرتے  ہوئے دیکھا کہ یہودی بچوں کی مائیں حمل کے ایام یعنی حمل ٹھہرنے کے فوراً بعد سے ہی  اپنے ہونے والے بچے کی پرورش شروع  کردیتی ہیں۔ یہ بات تو حقیقت ہے کہ ایک ماں کی حرکا ت و عادات پیداہونے والے بچے کی صحت ، صلاحیت، قابلیت اور شخصیت پر بہت گہر ا اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی  بچوں کی مائیں حمل کے آغاز سے ہی ریاضی کے پیچیدہ سوالات حل کرنا شروع کردیتی ہیں، حمل کے دوران وہ زیادہ سے زیادہ خوش رہتی ہیں اور اپنی خوراک کا بہت  زیادہ  خیال رکھتی ہیں  اور وہ خاص طور پر موسیقی میں دلچسپی لیتی  ہیں۔

مزید پڑھیں:کامیابی چاہتے ہیں تو مثبت سوچ رکھیں

جہاں پر ریاضی کا تعلق ہے اس معاملے میں وہ کافی سیرس ہوتی ہیں،  سٹیفن کہتے ہیں کہ میں یہ دیکھ کر کافی حیرا ن ہواکہ حاملہ عورتیں ریاضی کی کتابیں ہر وقت اپنے ساتھ  لیے  پھرتی ہیں۔ اور دماغی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے مشکل سے مشکل ریاضی کے  سوالات حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

 ڈاکٹر سٹیفن نے کہا کہ ایک دن اپنی حیرت کو کم کرنے کیلئے  میں نے ایک  حاملہ عورت سے پوچھا :کیا آپ یہ سب کچھ  پیداہونے والے بچے کے لیے کر رہی  ہیں،  اس نے جواب دیا :جی ہاں ! بچوں کو ٹرین کرنے کےلیے یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ وہ بعد میں ہوشیار اور ذہین بن سکیں ۔ سٹیفن کہتے ہیں کہ گانے بجانے کے بارے میں میرا خیال تھا کہ شاید یہ پرسکون ہونے کیلئے  کیا  جاتا ہے لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ جب اس بات کا پتہ چلا کہ یہودی سائنسدانوں کی ریسرچ ہے ۔ کہ پیانو اور وائلن کی پریکٹس سے پیداہونے والے بچے کی ذہنی صلاحیت بڑھتی ہے۔ یہودیوں کے مطابق موسیقی کی وائبریشن دماغ کی نشوونما کرتی ہے۔یہودیوں کے ہاں  بچہ پیدا ہونے کے بعد بچے کو پیانو، وائلن اور موسیقی کی باقاعدہ کلاسز دی جاتی ہیں شاید اسی  وجہ سے  یہودیوں میں بے شمار ذہین لوگ موجود ہیں۔

  

Post a Comment

0 Comments